Bhuchak (Afsana) By Huma Waqas

 


Bhuchak (Afsana) By Huma Waqas 

It is very famous, social, hear melting novel 

which is published on group of Best Urdu Novels Land.

Best Urdu Novels Land promote new writers to write online novels

and  show their writing abilities to the world. 

 Huma Waqas is a emerging new writer and its 

her new novel which is being written for us. 

This novel will surely grab your attention.

Bhuchak (Afsana) By Huma Waqas  download pdf

is available in pdf  and for online reading. 

Click the links below to download free

download pdf or free online reading this novel. 

For better result click on the image.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)


OR

0NLINE READING

افسانہ ۔۔۔بھُچک💞

مصنفہ۔۔۔ہما_وقاص💞

---------------

 “ پلیز صلہ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ۔ "

میں اس کے آگے بے بس کھڑا تھا اور وہ اپنے سوٹ کیس کے ہتھے پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے بے حس کھڑی تھی ۔

“ میرا راستہ چھوڑو اظفر ۔ "

“ سب کچھ بتا دیںے کے باوجود تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو ۔ مجھے معاف کردو پلیز ۔ "

میں کوئی ہزارویں دفعہ اس سے معافی مانگ رہا تھا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

“  نہیں معاف کرنے کے لئے کچھ رہا ہی نہیں ۔ ویسے بھی ہمارے بیچ اب ہے ہی کیا ۔ "

صیح کہہ رہی تھی وہ ۔ ہمارے بیچ تھا ہی کیا ۔

“ تمھارا میرے سوا ہے ہی کون ۔ "

میں نے بڑی امید سے کہا ۔ وہ تلخ مسکراہٹ کو لبوں پر لے آئی ۔

“  اب ہے کوئی اور اس نے مجھے سکھا دیا کہ کیسے اکیلے جینا ہے اور خوش رہنا ہے ۔ "

“ اوکے تم جا رہی ہو جاؤ  لیکن پلیز اس کے پاس نہیں ۔ پلیز ۔۔۔۔وہ  صیح نہیں ہے ۔"

“ وی آر جسٹ فرینڈز ۔  "

“ یہ تم ہو جو صرف فرینڈ سمجھتی ہو لیکن وہ نہیں ۔۔۔ "

“ تم صرف اس پر الزام لگا رہے ہو کیونکہ میں تمہیں چھوڑ رہی ہوں ۔ میں جانتی ہوں کون اچھا ہے کون برا ہے ۔ "  وہ دانت چبا چبا کر کہہ رہی تھی ۔

“ صلہ پلیز ز۔ز  بات کو سمجھو ۔ "

میں جھنجلایا ۔ وہ بیگ کو گھسیٹتی , میرے پہلو سے نکلتی دروازہ کھول چکی تھی  ۔

“  اب ملاقات عدالت میں ہی ہو گی ۔ "

دو ٹوک لہجہ تھا اس کے بعد وہ رکی نہیں تھی ۔ میں بے بسی سے اسے جاتا دیکھا رہا تھا ۔ ویران فلیٹ میرا منہ چڑا رہا تھا  اور میں سر تھامے پاگلوں کی طرح کھڑا تھا ۔

☆☆☆☆☆       

“ ہیلو ۔"

میری دائیں جانب سے نسوانی آواز ابھری تھی ۔ میں اس وقت کام میں مگن تھا اور نگاہیں لیپ ٹاپ سکرین پر جمی تھیں لیکن آواز انجان تھی میں چونکا اور آواز کی جانب  گردن گھمائی ۔

وہ میری میز کے بالکل قریب کھڑی تھی ۔ میری  پہلی نگاہ اس کے جدید طرز کے لباس پر گئی  سرخ ٹاپ اور بلیو جینز میں وہ کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کرسکتی تھی اور یہ میری  آج کے دن اس کی طرف  اٹھی پہلی نظر نہیں تھی ۔ صبح جب میں اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے لے آ رہا تھا تو میں جان بوجھ کر اس کی سیٹ کے سامنے سے گزرا تھا  تاکہ اس کو دیکھ سکوں ۔ یہ کام میں ہی نہیں میرے آفس کے اور بہت سے مرد بھی کرتے تھے ۔

“ مائی نیم از اریشہ  چوہان ۔ "

وہ بے تکلفی سے  ہاتھ بڑھائے ہوئے تھی ۔ میں تھوڑا سا ہچکچایا کیونکہ  مجھے  میرے ارد گرد کی بہت سی نشستوں پر بیٹھے ںفوس کی نگاہیں  ہم  دونوں کو گھورتی ہوئی  محسوس ہو رہی تھیں ۔

“ جی جانتا ہوں ۔ میرا مطلب ہے پتا ہے۔ آپ نیو ہیں آفس میں   ۔ "

میں نے اس کا ہاتھ تھام کر بمشکل بات کو سنبھالا وہ کھلکھلا دی ۔ وہ ہمارے آفس میں نئی تھی اور آجکل ہر نگاہ کا مرکز بھی تھی ۔  سانولی رنگت , چھوٹی آنکھیں , موٹے ہونٹ , گول ناک ,  لمبا قد اور سیاہ ریشم بال جو مشکل سے کندھوں تک آتے تھے اور انہیں وہ کھولے رکھتی تھی ۔

 دیکھا جائے تو وہ  حسین نہیں تھی مطلب میری بیوی صلہ کے مقابلے میں تو بالکل حسین نہیں تھی لیکن اس کے لباس کے ساتھ ساتھ اس  کا انداز بہت نرالہ تھا جو کسی کو بھی با آسانی اپنی طرف متوجہ کر سکتا تھا اور اب میں بھی تھا ۔    

“ آپ اظفر منیب  ہیں رائٹ ۔ "

وہ انگشت اٹھا کر بڑی ادا سے چھوٹی چھوٹی آنکھیں مزید  سکیڑے پوچھ رہی تھی ۔  میں بھی پھر ادا سے مسکرایا اور سر  اثبات میں ہلا دیا ۔ میرے لئے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ وہ میرا نام جانتی ہے ۔

“ مجھے آپ سے کچھ ہیلپ چاہیے ۔ ایکچوئلی یہ میری پہلی جاب ہے تو مجھے بہت سی باتوں کی سمجھ نہیں ہے ۔ کیا آپ مجھے گائیڈ کریں گے ۔ "

میں تو جیسے پھول نہیں سمایا ۔ اگرچہ میں بہت خوش شکل تھا اور آفس میں موجود تو سب مردوں  کو مات دیتا تھا لیکن اب میرا جسم تھوڑا فربہی مائل ہو گیا تھا ۔

وہ  اپنا لیپ ٹاپ کھول کر میری دائیں طرف بیٹھ چکی تھی اور اب مجھے بھی اس کی قربت کو نظر انداز کر کے مکمل توجہ سے اس کی مدد کرنی تھی اور میں نے کی ۔ اس دوران ہماری اچھی ہیلو ہائے ہو گئی ۔ 

  یہ بات نہیں تھی کہ ہمارے آفس میں کوئی اور خوبصورت اور جدید طرز لباس  والی لڑکیاں نہیں تھیں لیکن اریشہ چوہان اپنے منفرد انداز کی وجہ سے مرکز نگاہ تھی ۔ لنچ ٹائم پر میرے دوستوں  آصف اور وحید نے بہت سے معنی خیز جملے اچھالے پر  میں ہنس کر ٹالتا رہا ۔  ان کے مطابق اریشہ نے بہت چن کر پورے آفس میں سے میرا انتخاب کیا اور اس کی وجہ میرا خوش شکل ہونا تھا ۔ یہ باتیں مجھے اندر ہی  اندر بہت بھلی محسوس ہو رہی تھیں مگر میں ان پر ظاہر نہیں کر رہا تھا ۔

☆☆☆                                        

دروازہ بہت دیر سے کھلا تھا اور میں  بھنا کھڑا تھا ۔ آج آفس میں بھی زیادہ کام تھا اور اوپر سے راستے میں  ٹریفک نے بہت تنگ کیا ۔  گھر پہنچتے پہنچتے پونے بارہ ہو گئے تھے ۔ مجھے صلہ پر غصہ آ رہا تھا کیونکہ گھر پہنچنے سے دس منٹ پہلے میں اسے پیغام بھیج کر اور موبائل پر مس کال دے کر اپنی آمد کے بارے میں مطلع کر چکا  تھا ۔

 بلڈنگ کی لفٹ پچھلے ایک ہفتے سے خراب تھی جس کی وجہ سے سیڑھیاں چڑھ کر آنے پر بھی دروازہ کھلا نہ پا کر میرا دماغ غصے سے پھٹنے لگا اور جیسے ہی صلہ نے دروازہ کھولا میں اس کے خفا اور پھولے چہرے کو نظر انداز کرتا ہوا چیخنے لگا ۔

“ انسان ہوں میں ۔ جانور نہیں ۔ کیا کر رہی تھی اتنی دیر سے ۔ پاگل سمجھ رکھا ہے ۔ "

غصے میں چلاتا میں لاؤنج میں آ گیا تھا اور وہ خاموشی سے منہ پھلائے کچن میں چلی گئی  ۔ واش روم میں منہ ہاتھ دھوتے ہوئے اچانک میرے ذہن میں جھماکہ ہوا ۔ ہم نے آج باہر فلم دیکھنے اور ڈنر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا  ۔

چہرے پر پانی کے چھپاکے مارتے میرے ہاتھ ہوا میں ہی رک گئے ۔ میں جب ٹاول سے منہ صاف کرتا ہوا باہر آیا وہ خفا خفا سی میز پر برتن لگا رہی تھی ۔

 ہمارے شادی کو دس سال ہو چکے تھے ۔ صلہ میری کلاس فیلو تھی اور ہمیں یونیورسٹی میں ہی ایک دوسرے سے محبت ہوئی تھی ۔ وہ کلاس کی حسین ترین لڑکی تھی اور میں اس کا دیوانہ ہو گیا تھا ۔

 اس کے والدین بچپن میں ہی گزر گئے تھے اور پرورش ننھال میں ہوئی تھی ۔ ہماری محبت عام محبت نہیں تھی صلہ کی نسبت بچپن سے ہی اس کے ماموں کے بیٹے سے طے تھی لیکن میری خوش قسمتی کہ وہ مجھ سے محبت کرنے لگی ۔

اس نے میرے لئے پورے خاندان سے مخالفت کی اور یوں ہماری شادی ہو گئی ۔  صلہ کی نانی کی وفات کے بعد ان لوگوں نے جیسے قطع تعلق کر لیا  اور صلہ میری ہو کر رہ گئی ۔  ہم دونوں اپنی زندگی میں خوش تھے ۔ وہ بھی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھی اور میری بھی جاب اچھی تھی اگر ان دس سالوں میں ہمیں دکھ ملا تھا تو وہ اولاد نہ ہونے کا دکھ  تھا ۔

شروع میں ہم نے بہت کوششیں کیں لیکن پھر اللہ کی رضا سمجھ کر چپ سادھ لی ۔ وہ خاموشی سے کھانے کے برتن رکھ رہی تھی جب میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔

“ سوری یار ۔۔ دوپہر تک مجھے یاد تھا ۔ پھر کام میں ایسا الجھا کی خبر نہیں ہوئی ۔ "

“ اٹس اوکے ۔ "

وہ خفگی سے ہاتھ چھڑاتی کمرے میں چلی گئی  اور مجھے پتا تھا اب اس کو منانے میں پوری رات لگنے والی تھی اور شاید تب تک منہ پھولا رہے جب تک میں ڈنر پر نہیں لے جاتا ۔  میں نے گہری سانس لی اور کھانا کھانے لگا  ۔ 

شادی کے دس سال گزر جانے کے بعد میں اب اس کی ناراضگی کی اتنی پرواہ نہیں کرتا تھا یہی وجہ تھی میں نے کچھ دیر اسے منانے کی کوشش کی اور پھر الٹا اس سے ناراض ہو کر آنکھوں پر بازو رکھے سو گیا ۔

☆☆☆           

" اپنا فون نمبر دو ۔ "

اریشہ کے اچانک فون نمبر مانگنے پر میں چونکا ۔ دراصل وہ چونکنا خوشی کا چونکنا تھا ۔ پچھلے ایک ہفتے سے ہماری ہیلو ہائے اچھی گپ شپ میں تبدیل ہو گئی تھی ۔ اس کا حس مزاح بہت اچھا تھا اور میں اکثر گھر میں بھی  اس کی باتوں کو یاد کر کے خود ساختہ ہنس دیتا تھا  ۔ ایسے میں اکثر میرا دل چاہتا میری اسی وقت اس سے بات ہو لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا تھا کیونکہ میرے پاس اس کا نمبر نہیں تھا ۔ آج وہ میرا نمبر مانگ رہی تھی اور میرے چونکنے پر حیرت سے ہنس پڑی ۔

“ کیا ہوا مجھے اپنا نمبر نہیں دینا چاہتے ۔ "

“ارے نہیں ایسی بات نہیں لکھو ۔ "

میں بھی ہنس دیا اور پھر نمبروں کا تبادلہ ہونے کی دیر تھی ہم آفس میں تو گپ شپ کرتے ہی تھے اب گھر پہنچتے ہی ہیلو ہائے ہونے لگی۔

 اریشہ صرف لباس اور انداز سے ہی لبرل نہیں تھی بلکہ اس کا سارا طرز زندگی ہی لبرل تھا ۔ میں پہلے اس کی شادی نہ ہونے کا سوال اکثر سوچ کر ہی رہ جاتا تھا لیکن ایک دن پوچھنے پر پتا چلا کہ اس کی شادی ہوئی تھی لیکن پھر ایک سال کے اندر اندر دونوں کی علیحدگی ہو گئی اس کے بعد اس نے شادی نہیں کی اور اب کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی تھی اور اپنی فیمیلی سے الگ تھلگ ایک فلیٹ میں اکیلی رہتی تھی ۔

کہیں نہ کہیں اس بات نے مجھے تسلی دی تھی کہ وہ صرف میری دوست ہے اور میں اس سے دن رات بات کر کے اپنی بیوی کو کوئی دھوکا نہیں دے رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے میں نے صلہ سے بھی اس کا ذکر کر رکھا تھا کہ ہمارے آفس میں ایک لڑکی ہے لیکن سوچ بالکل لڑکوں جیسی ہے ۔ صلہ اکثر ہماری چیٹ بھی پڑھ لیتی تھی جس میں ہم دونوں کی باتیں زیادہ طر کسی موضوع پر بحث کی صورت میں ہوتی تھیں ۔                    

صلہ کو ان معاملوں میں ویسے بھی مجھ پر کافی یقین تھا کیونکہ ہماری بہت سے یونیورسٹی فیلو بھی مشترکہ تھیں اور وہ جانتی تھی میں لڑکیوں سے بے تکلف بات کر لیتا ہوں اس لئے اسے اریشہ سے میرا بات کرنا اتنا تعجب خیز نہیں لگا تھا  ۔ 

☆☆☆☆ 

وقت گزر رہا تھا اور ہماری بے تکلفی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اس کا تو نہیں پتا لیکن میں خود میں اس کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں محسوس کرنے لگا تھا ۔ وہ مجھے اب اچھی لگنے سے کچھ زیادہ لگنے لگی تھی ۔

جس دن میری اس سے بات نہ ہوتی تو میں اکیلا پن محسوس کرنے لگتا اور اگر وہ آفس میں کسی اور سے بات کرتی تو میں جیلس ہونے لگتا  ۔

ہماری اب چھوٹی چھوٹی بات پر جھگڑے  ہونے لگے تھے ۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے اور پھر ایک دن اس بات کا اظہار ہو ہی گیا ۔ اس رات بہت بارش ہو رہی تھی اور جب میں پارکنگ میں پہنچا اس کی کار خراب تھی اور وہ پریشان کھڑی تھی ۔

ان دنوں ہماری کسی بات پر ناراضگی چل رہی تھی لیکن اس نارضگی میں بھی  وہ پریشان تھی تو میں کیسے اس کو یوں پریشان چھوڑ کر وہاں سے چلا جاتا میں اس کے پاس آ گیا ۔

“ کیا ہوا ؟ "

“ گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔ "

اس نے اپنے مخصوص انداز میں نچلے لب کو کچلتے ہوئے جواب دیا   ۔ وہ گاڑی کا بونٹ کھولے       کھڑی تھی ۔ میں آگے ہوا اور جھک کر جانچ کرنے لگا ۔

“ یہ تو میکنک کو دکھانی پڑے گی جو اس وقت ممکن نہیں ۔ آو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔ "

میں نے ساری ناراضگی بھلائے اسے پیش کش کی تو وہ بھی مشکور سی میرے ساتھ چل دی ۔ ہم دونوں کار میں خاموش بیٹھے تھے جب اس نے اچانک بات شروع کی ۔

“ اظفر ہم بہت جھگڑنے لگے ہیں ۔ اب ہماری دوستی ویسی نہیں رہی ۔ "

میں نے ڈرائیو کرتے ہوئے کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ سامنے ونڈ سکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی ۔

“ اور مجھے یہ لگتا ہے کہ اب ہم میں  دوستی رہی ہی نہیں ۔ "

وہ میری بات پر بری طرح چونکی ۔

“ کیا یہ سچ ہے ؟ "

وہ معصومیت سے پوچھتی ہوئی مجھے بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ میں نے گاڑی روک دی ۔ وہ پریشان بیٹھی تھی ۔ میں مسکراتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا ۔ ناجانے وہ کیسا لمحہ تھا کہ میں اپنے دل کی بات اسے بتانے  سے خود کو نہ روک سکا۔

“  اریشہ مجھے لگتا ہے کہ ہماری دوستی اب پسندیدگی میں بدل گئی ہے ۔ میں تمہیں بہت پسند کرنے لگا ہوں شاید اسی لئے تمھارا کسی اور سے بات کرنا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔ "

“ صرف پسند ؟ "

وہ بھنویں اچکائے پوچھ رہی تھی ۔

“ کہ۔۔کیوں کیا ہوا ؟ "

میں بھونچکا گیا اس کا سوال بالکل غیر متوقع تھا ۔

“ ہاں تم نے کہاتم مجھے پسندکرنے لگےہو جبکہ میں تو تم سے پیار کرنے لگی ہوں۔ "

ایک عجیب سا ارتھ تھا جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لیا اور اس وقت میں صلہ کو بالکل فراموش کئے ہوئے تھا ۔ سامنے بیٹھی لڑکی نے مجھ پر سحر طاری کر رکھا تھا ۔ وہ لمحہ اور اس کا اقرار ایسا تھا کہ میں بے اختیار اسے گلے لگا گیا ۔

بس وہ دن اور اس کے بعد ہماری گفتگو کا رخ ہی بدل گیا  ۔ پیار محبت کی باتیں ۔ جذبات کے تبادلے ۔  وہ مجھ سے جنونی محبت کرنے لگی تھی ۔ ہم آفس کے بعد گھنٹوں کافی شاپ میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ۔ میں آہستہ آہستہ صلہ سے بالکل لاپرواہ ہو کر اس کا ہونے لگا ۔

بلاآخر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ مجھ سے شادی کا مطالبہ کرنے لگی ۔ میں گڑبڑا گیا کیونکہ اتنا آگے کا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن اب اسے چھوڑنا میرے لئے ناممکن جیسا ہو گیا تھا ۔

میں نے اسے صاف صاف الفاظ میں بتا دیا کہ میں کبھی بھی  صلہ کو نہیں چھوڑوں گا کیونکہ اس کا اس دنیا میں میرے سوا کوئی بھی نہیں ہے ۔

وہ خوشی سے میری بات پر راضی ہو گئی تھی ۔ اس نے اور میں نے الگ سے اسی کے فلیٹ پر رہںے کا پروگرام بنایا ۔ دراصل وہ ویسے بھی دوسری گرل فرینڈز کی طرح نہیں تھی ۔

 جاب کے ساتھ ساتھ وہ ویسے بھی معاشی طور پر کافی مضبوط تھی ۔  اس کے والد اچھے بزنس مین تھے اور وہ  ماہانہ بھاری رقم پاکٹ مںی کے طور پر وصول کرتی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے کبھی مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا الٹا مجھے مہنگے مہنگے گفٹ لے کر دینا اور بڑے بڑے ہوٹلز میں کھانا کھلانا یہ سب اخرجات وہ اُٹھاتی تھی ۔

میں اب صلہ سے بالکل لاپرواہ ہو گیا تھا ۔ وہ اکثر اس بات کو محسوس کرتی اور مجھ سے جھگڑنے لگتی لیکن میں اب اس کے جھگڑوں کو اتنا سنیجیدہ نہیں لیتا تھا وہ بھی رو دھو کر چپ کر جاتی تھی کیونکہ اس کا میرے سوا کوئی نہیں تھا ۔

☆☆☆   

میں بہت دنوں بعد صلہ کی بہت ضد پر اس کے ساتھ  باہر آیا تھا ۔ ہم نے فلم دیکھنے اور اس کے بعد کسی اچھی جگہ پر ڈنر  کا پروگرام بنایا تھا اور یہ کیسے ہو سکتا تھا  کہ میں یہ بات اریشہ سے چھپاتا ۔  میں نے اسے بتا دیا کہ میں بات نہیں کر سکوں گا کیونکہ میں صلہ کے ساتھ فلم دیکھنے جا رہا ہوں۔

اس نے سرسری انداز میں مجھ سے پوچھا کہ ہم کہاں اور کونسی فلم دیکھنے جا رہے ہیں ۔ میں نے بھی اسے بتا دیا لیکن اس کی ہمیشہ کی طرح  حیران  کر دینے کی  عادت نے اس دن مجھے پریشان کر دیا۔  وہ ہم دونوں کے پہنچنے سے پہلے وہاں موجود تھی ۔ میرا تو اوپر کا سانس اوپر رہ گیا جب وہ مسکراتی ہوئی ہماری طرف آئی ۔

“ واٹ اے پلیزنٹ سرپرائز ۔ کیسے ہو اظفر ۔ "

وہ اپنے مخصوص  بے تکلف انداز میں بات کی شروعات کر چکی تھی ۔ میری تو زبان تالوے سے جا لگی ۔

“ ہیلو صلہ مجھے جانتی ہی ہوں گی ۔ میں اریشہ ہوں اظفر کی کولیگ ۔ "

وہ بشاشت سے مسکراتی ہوئی صلہ کی طرف مصافحہ

 کے                  لئے ہاتھ بڑھائے ہوئی تھی  ۔

صلہ نے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا ۔ میں بمشکل مسکرا رہا تھا ۔

“ صلہ آپ اپنی تصویروں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔ "

وہ بنا لگی لپٹے صلہ کی تعریف کر رہی تھی اور عورت تو ویسے بھی کسی دوسری عورت کے منہ سے اپنی تعریف سننا پسند کرتی ہے ۔ اس لئے صلہ کے چہرے پر بھی وہ خوشی نمایاں تھی ۔

میں جس بات سے ڈر رہا تھا ویسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔ اریشہ نے ہمارے ساتھ کی ہی سیٹ بک کروائی تھی ۔ وہ اور صلہ پوری فلم کے دوران گپ شپ لگاتی اور ہنستی رہیں ۔ میں بہت پرسکون ہو گیا تھا اور وہ تو ویسے بھی اریشہ تھی ایسا کون تھا جو اس کی کمپنی میں بور ہو جاتا ہے ۔ واپسی پر صلہ کے ہی  اصرار پر اسے ہمارے ساتھ ڈنر بھی کرنا پڑا ۔ میری تو خوشی کی انتہا نہیں تھی ۔ صلہ اس سے پہلی ہی ملاقات میں بے حد متاثر ہوئی تھی ۔

کھانا کھاتے ہوئے اس نے صلہ سے نظر بچا کر مجھے شرارت سے آنکھ ماری ۔ یہ ہم دونوں کے لئے بہت خوشگوار بدلاؤ تھا ۔

صلہ نے اسے گھر آنے کی دعوت دی جس میں میں نے بھی کچھ بڑھ کر ساتھ دیا اور یوں اریشہ کے لئے ہمارے گھر کے راستے کھل گئے ۔ 

مجھے میرے والدین کی طرف سے دوسری شادی کا اکثر کہا جاتا تھا کیونکہ صلہ سے مجھے کوئی اولاد نہیں تھی ۔ پہلے تو میں نے کبھی اس بارے میں سوچا تک نہیں تھا لیکن اب میں نہ صرف سوچنے لگا تھا بلکہ پورا منصوبہ بھی بنا چکا تھا ۔

میں اریشہ سے شادی چھپ چھپا کر کرنے کا ارادہ ترک کر چکا تھا اور اب اپنی فیمیلی کے ساتھ مل کر اور صلہ کو اعتماد میں لے کر یہ سب کرنا چاہتا تھا ۔

☆☆☆       

وقت گزرنے کے ساتھ اریشہ کا ہمارے گھر آنا جانا زیادہ  اور صلہ سے دوستی گہری ہوتی چلی گئی ۔ میں بہت خوش تھا اور اب جلد ہی اپنے والدین سے بات کرنے کے لئے پر تول رہا تھا لیکن اس سے پہلے کہ میں ایسا کچھ کرتا اریشہ کا رویہ میرے ساتھ اچانک تبدیل ہو گیا ۔

 اس نے آفس میں مجھ سے بات کرنا , میرے پاس آنا ترک کر دیا , میرا فون اٹھانا بند کر دیا اور پیغام کا  جواب بھی  گھنٹوں بعد اور بہت روکھے پھیکے انداز میں دینے لگی ۔  میں اس کے یوں اچانک بدل جانے پر بہت پریشان ہو گیا تھا ۔

مجھے اس کی  اور اس کی بے حد محبت کی عادت پڑ چکی تھی اور اب تو میں اس کے لئے اتنا بڑا قدم اٹھاںے جا رہا تھا پھر یوں اچانک اس کا مجھ سے بیزار ہو جانا میری سمجھ سے باہر تھا ۔

آخر کار پھر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارا  ترک تعلق ہوا  ۔ اس دن وہ آفس نہیں آئی تھی ۔ میں اسے شدت سے یاد کر رہا تھا ۔ اسے بہت فون کئے  پر وہ میری ہر کال کاٹ رہی تھی اور پیغام کا بھی کوئی جواب نہیں دے رہی تھی ۔ میں آفس سے جلدی نکل آیا پہلے اس کے فلیٹ پر گیا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھی ۔ میں مایوس ہو کر اپںے گھر لوٹ آیا اور میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب اسے میں نے اپنے گھر میں موجود پایا ۔

میں گھر پہنچا تو وہ ہمارے لاؤنج میں بیٹھی تھی ۔ صلہ نے بہت خوشگوار موڈ میں دروازہ کھولا تھا اور جب میں لاؤنج میں پہنچا وہ صلہ سے  کوئی بات کرتے           ہوئے قہقہ لگا رہی تھی ۔ اس کی میری طرف پشت تھی اور اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میں آج یوں جلدی آفس سے آ جاؤں گا ۔ 

مجھے بہت اچھا لگا کہ وہ میرے گھر میں موجود ہے میں خوشی سے اس کے سامنے گیا کہ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائے گی لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔

مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر جیسے ہوائیاں اڑ گئیں اور اس کے بعد وہ وہاں رکی ہی نہیں طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے گھر سے باہر نکل گئی میں صلہ سے نظر بچا کر اس کے پیچھے بھاگا اور بلآخر میں نے پارکنگ میں اسے جا لیا ۔

“  اریشہ یہ سب کیوں کر رہی ہو ؟ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے ۔ کچھ بتاؤ تو  ۔ "

“ کچھ غلطی نہیں ہوئی ہے ۔ بس مجھ سے غلطی ہوئی ۔ میں اب تم سے محبت نہیں کرتی ہوں ۔ "

وہ بڑے آرام سے بات کر رہی تھی اور وہ سچ کہہ رہی تھی کیونکہ اس کی آنکھوں میں میرے لئے کوئی محبت نہیں تھی ۔

“ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔ ہم شادی کرںے والے تھے ۔ "

“ نہیں اب ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا ۔ اس لئے تم مجھے بھول جاؤ ۔ گڈ بائے ۔ "

وہ دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی اور چلی گئی اور میں ہکا بکا کھڑا اپنا احتساب کر رہا تھا کہ میں نے کہاں کچھ غلط کر دیا تھا ۔

☆☆☆     

ہمارے بریک اپ کو کافی دن گزر گئے تھے لیکن میں اسے بھول نہیں پا رہا تھا ۔ میرا حال دیوانوں جیسا تھا ۔ ہر وقت اس کی کھوج میں لگا رہتا تھا  تبھی مجھے ایک بات بری طرح چبھنے لگی ۔

وہ اکثر اوقات کسی سے فون پر بات کر رہی ہوتی تھی ۔ آفس کے دوران بھی ٹیکسٹ کرتی رہتی ۔ مسکراتی رہتی ۔

میری تکلیف بڑھ گئی تھی مطلب وہ کسی اور کے ساتھ تھی ۔ وہ اب میری طرف دیکھتی تک نہیں تھی ۔ میں بہت اداس اور پریشان رہتا تھا  ۔

صلہ سے بھی کھچا کھچا رہںے لگا ۔ ان دنوں ہمارے جھگڑے بہت زیادہ ہونے لگے ۔ صلہ روتی رہتی اور میں اسے چپ کرانے تک نہیں جاتا تھا  ۔ آہستہ آہستہ وہ بھی مجھ سے بات کرنا کم کر چکی تھی ۔ گھر کا ماحول عجیب ہو گیا تھا ہم دونوں اجنبیوں کی طرح رہتے تھے ۔

مجھے خود سمجھ نہیں تھی کہ میں کیا کروں مجھ سے اریشہ کی بے وفائی برداشت نہیں ہو رہی تھی اور پھر ایک دن ہمارا لفٹ میں ٹاکرا ہوا وہ کسی سے ٹیکسٹ میسجز پر بات کرتی ہوئی بے دھیانی سے لفٹ میں داخل ہو رہی تھی جب مجھ پر نظر پڑی اور اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی میں نے اس کے ہاتھ سے اس کا موبائل چھینا , اسے پیچھے کو دھکا دیا اور لفٹ کا بٹن بند کر دیا ۔

 وہ لڑکھڑائی تھی اور جب تک سنبھل کر لفٹ تک واپس آنے لگی لفٹ بند ہو چکی تھی ۔

میں نے تجسس میں اس کے فون پر نگاہ دواڑئی جس پر اب بھی کسی کے پیغام آ رہے تھے اور میری حیرت کی انتہا نہیں رہی وہ کسی اور سے نہیں میری بیوی سے بات کر رہی تھی ۔

میرے لئے اس کا میری بیوی سے بات کرنا اتنا حیران کن نہیں تھا جتنا اس کے بات کرنے کا انداز عجیب تھا ۔ وہ ہر وقت , مطلب دن رات میری بیوی سے بات کرتی تھی ۔ اس سے تصویریں مانگتی تھی اور پھر اس کے حسن پر لمبے لمبے قصیدے لکھتی تھی ۔ میری بیوی کو مہنگے گفٹس دے رہی تھی  ۔

وہ اس وقت میرے گھر جاتی تھی جب میں گھر میں نہیں ہوتا تھا ۔ وہ دونوں باہر ملتی تھیں اور صلہ اس کے فلیٹ پر بھی جاتی تھی ۔

میں ساری چیٹ پڑھتا اوپر پہنچا اور سیدھا واش روم کی طرف چل دیا کیونکہ میں مزید یہ سب جاننا چاہتا تھا اور جو کچھ میں نے دیکھا میرے پیروں تلے سے زمین کھسکا دینے کے لئے کافی تھا ۔ میں بُھچک کر رہ گیا ۔ وہ میری بیوی سے محبت کرنے لگی تھی ۔ اس کے موبائل کی گیلری میری بیوی کی تصاویر سے بھری ہوئی تھی اور کچھ تصاویر ایسی تھیں جن کی شاید صلہ کو کوئی خبر نہیں تھی ۔ صلہ اس کے فلیٹ پر سو رہی تھی اور اس کے سینے سے دوپٹہ ہٹا کر بہت سی تصاویر کھنچی ہوئی تھیں ۔

اتنا ہی نہیں اس نے صلہ کے ساتھ اپنی بہت سی گلے لگی اور اس کے گال پر بوسے دیتے ہوئے تصاویر بنائی ہوئی تھیں ۔ صاف ظاہر تھا کہ صلہ کو اس کی نیت کی خبر نہیں تھی ۔ صلہ کی باتوں سے بھی یہی لگتا تھا کہ صلہ اسے صرف اپنی دوست سمجھتی ہے لیکن وہ صلہ کو صرف اپنی دوست نہیں سمجھتی               تھی ۔

میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ وہ جینٹیس واش روم کا دروازہ پیٹ رہی تھی اور غصے سے چلا رہی تھی ۔ میں نے اس کے موبائل سے صلہ کی ساری تصاویر ڈیلیٹ کیں اور باہر نکل آیا  ۔

وہ غصے میں بھری ہوئی تھی  اور اس سے پہلے کہ مجھ پر چیختی میں نے اس کا گلا دبوچ لیا ۔

“  میری بیوی سے دور رہو سمجھی ۔ "

میں نے دانت پیستے ہوئے کہا اور اس کا موبائل پوری قوت سے دیوار میں دے مارا ۔

☆☆☆☆☆     

میں اس رات بہت مضطرب گھر آ رہا تھا اور دل میں سب سوچ لیا تھا ۔ بار بار شکر ادا کر رہا تھا کہ مجھے اریشہ  کی سب حقیقت کا بروقت پتا چل گیا ۔

میرے دل میں اس کے لئے موجود ساری محبت بھک سے اڑ گئی  ۔ وہ صرف لبرل ہی نہیں تھی ہم جنس پرستی کو پسند کرتی تھی ۔ میری بیوی کی خوبصورتی نے اسے دیوانہ بنا دیا تھا ۔

وہ میری بیوی سے محبت کرنے لگی تھی ۔ میں تیزی سے کار چلا رہا تھا مجھے آج گھر جا کر صلہ کو گلے لگانا تھا ۔ اس سے معافی مانگنی تھی اور اریشہ کی حقیقت بتانی تھی ۔

میں عجلت میں گھر پہنچا لیکن جیسے ہی صلہ نے دروازہ کھولا میری حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ اپنا بیگ پیک کئے جانے کے لئے کھڑی تھی ۔

اریشہ نے میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اسے سب بتا دیا تھا ۔ وہ مجھ پر کھڑی چیخ رہی تھی کیونکہ اریشہ نے اسے میری اور اپنی ایسی چیٹیس کے سکرین شارٹ بھیجے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ میں نے اسے پھنسایا تھا اور وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی ۔

میرے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ میں اسے دکھا سکتا کیونکہ میں ہمیشہ اپنی اور اس کی تمام بات چیٹ مٹا دیا کرتا تھا ۔

میں نے صلہ کو سمجھاںے کی بہت کوشش کی اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ وہ صلہ کی برین واشنگ کر چکی تھی ۔ صلہ بھی اب اس کی طرح آزاد زندگی گزارنا چاہتی تھی ۔

میرے رویے نے اس کے دل سے میری محبت رفتا رفتا مٹا دی تھی ۔ وہ اریشہ کے پاس جا چکی تھی اور میں تہی دامن کھڑا تھا  ۔

اریشہ نے اسے کنٹرول کر لیا تھا اور کیا پتا وہ ایک دن اریشہ کے گھناؤنے ارادوں کی بھنک پڑنے پر واپس آ جائے لیکن شاید وہ میرے پاس واپس نہیں آئے گی ۔

میں رو رہا تھا ۔ میں نے صلہ کو کھو دیا تھا ۔ میری خوبصورت بیوی کو جس سے میں بے پناہ محبت کرتا تھا لیکن یہ سب میری بے وفائی کا صلہ تھا ۔

میں نے صلہ کی قدر نہیں کی ۔ وہ مجھ سے وقت مانگتی تھی میں اپنی مستیوں میں مگن تھا ۔

اولاد نہ ہونا اس کے بس میں نہیں تھا لیکن وہ اس بات کو لے کر کس کس تکلیف سے گزری ہو گی یہ وہی جانتی تھی ۔

وہ اب اریشہ کے ساتھ خوش رہنے لگی تھی ۔ بانجھ پن کا دکھ کم ہو گیا تھا  لیکن میں نے اس سب کا انجام یہ نہیں سوچا تھا جو ہوا ۔ میں صلہ کو اریشہ جیسی عورت کے پاس نہیں بھیج سکتا تھا ۔

میں ایک دم سے اٹھا ۔ کار کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا ۔

☆☆☆☆     

میں بہت غصے میں اریشہ کے فلیٹ پر پہنچا تھا ۔ وہ شاید بھول گئی تھی لیکن اس کے فلیٹ کی ایک چابی میرے پاس موجود تھی جو اس نے بہت پہلے مجھے دے رکھی تھی ۔

میں اس کے فلیٹ پر پہنچا تو وہاں وہ اکیلی موجود تھی ۔ میں اس پر چیخنے چلانے لگا کہ صلہ کہاں ہے ۔ وہ خاموش کھڑی رہی اور پھر اس نے میرے سامںے اپنا موبائل کر دیا جس میں صلہ کا پیغام موجود تھا ۔ 

وہ اس کے پاس بھی نہیں آئی تھی ۔ وہ کہاں گئی تھی اس نے کچھ نہیں بتایا تھا  ۔ میں خاموشی سے اس کے گھر سے لوٹ آیا ۔

☆☆☆☆            

صلہ کو مجھ سے بچھڑے تین سال ہو گئے ہیں ۔ وہ اب بھی میرے نکاح میں ہے لیکن وہ کہاں ہے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میں نے اسے بہت تلاش کیا اور ہمیشہ کرتا رہوں گا ۔

میری فیمیلی نے         مجھ پر دوسری شادی کرنے کا بہت زور لگایا لیکن میں اب کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔ میری یہ تنہائی میری بیوفائی کی سزا ہے ۔

ختم شد ۔


Comments

Popular posts from this blog

Meerab Hayat Interview By Sania Mughal

Shikwa by Sania Mughal

Koi Hum Sa Kahan By Shagufta Kanwal Last Episode(33)